Sadiq and Amin humour | Tanvir Afzaal

https://www.facebook.com/plugins/post.php?href=https%3A%2F%2Fwww.facebook.com%2Ftanvir.afzaal%2Fposts%2F10212736110372084&width=500

Advertisements

Nawaz Sharif journey to Lahore

The procession, that is the proceeding, of Nawaz Sharif from Islamabad to Lahore, was conceived as a rally. It was nothing of the sort. With stringent traffic controls on and around GT road the magnitude of the rally would be bounded. Even in an open-ended rally, it would have been difficult for the Nawazite partisans living far from the road to join it for various economic or logistic reasons, the means of transport being a serious consideration. The procession could be joined from the point of closure onward from those places lying not far from the road and allowed under the strict road plan. That opportunity was amply availed of by his supporters as was demonstrated on the first day of the procession and on Wednesday except for a stretch when the convoy had to speed up presumably for either security reason or in order to get to Jhelum before nightfall. On the other hand, it provided the deposed prime minister opportunity after opportunity to touch base with his supporters.He made full use of the encounters with his enthusiastic admirers and conveyed his message, whatever it was, in simple language. If everything goes as smoothly as it has done so far (6:15 PST Friday), one could surmise that in Gujranwala and onward from there the crowd is boud to swell. But, of course, my crystal gazing is not reliable.
The travel exercise undertaken by Nawaz Sharif has proved to be a huge string of mass meetings. He could not have wished more or better. So far, he has been lucky, but will he pull it off or will he be allowed to pull it off?
One thing is certain. Whatever the merit of the case, one thing is certain: those in power should no longer take the masses for granted, no matter how misguided or rightly motivated the masses may be. Do not mess with the masses. They are so mean, so bloody minded.

Continue reading “Nawaz Sharif journey to Lahore”

دور رس تبدیلی

ہم سب جانتے ہیں کہ فیبئین سوشلسٹوں کے نزدیک تعلیم سوشلزم لانے کے عمل کی کنجی ہے۔ اسے سائنٹفک سوشلزم والے یوٹوپئین سوشلزم گردانتے ہیں۔

یہ تصور خاص طور کمیونزم وادیوں میں عام تھا، جو ایک زمانے تک تشدد کو ناگزیر اور ان میں بعض گروہ اسے مستحسن سمجھتے تھے۔ (یہاں میں کمیونزم کی رنگا رنگ شکلوں کے درمیان اور ایک طرف ان کے اور دوسری طرف مارکس وادیوں کے درمیان فرق نہیں کر رہا)۔

اب جب کہ تقریباّ سبھی کمیونزم وادی تشدد کے بجائے جمہوری جد و جہد کو اپنی راہ قرار دیتے ہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کے اور فیبئین لوگوں میں کوئی فرق رہ گیا ہے۔

میرے خیال میں کمیونسٹ وادی تعلیم کے ساتھ عوامی جدو جہد کو لازم سمجھتے ہیں۔ یہ عوامی جد و جہد صرف پارلیمان تک محدود نہیں ہے۔ ان کے نزدیک پارلیمان سے باہر یعنی ایکسٹرا یا پیرا پاریمانی جد و جہد بھی اہمیت رکھتی ہے۔   (ضمنی طیور پر یہ عرض کروں کہ اخری این اے پی کا منشور جو بنیادی طور پر میرے سیاسی گروہ کی سوچ کے تحت میری کاوش تھی ، اس میں سوشلزم کو اپنی منزل اور پارلیمانی اور غیر پارلیمانی جدو جہد کو اپنا ذریعہ جد و جہد قرار دیا  کیا گیا تھا) ۔

میرے خیال میں یہی درست موقف ہے۔

اس کا ایک ضمنی نتیجہ یہ ہے کہ آپ جب جمہوری اور پیرا پارلیمانی جدو جہد کو اختیار کرتے ہیں تو پرولتاریہ کی آمریت کا نظریہ غیر متعلقہ ہو جاتا ہے۔ جمہوری جدوجہد کے تحت الیکشن میں انقلابی پارٹی یا ترقی پسند پاڑتیوں کے بلاک جس میں انقلابی پارٹی شامل ہو، وہ ہار بھی سکتی ہے، جیسا کہ ہمارے ہمسایہ ملک میں ہوتا ہے۔

یہاں ایک پیراڈاکس کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔: صنعتی عمل کے بڑھنے کے ساتھ محنت کش طبقے کی تعداد میں اضافہ اور اس کے ہنروں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں سماج کا بڑا حصہ محنت کش طبقے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس صورت میں تھیوریٹکلی محنت کش طبقے کی آمریت کے بجائے اس کی جمہوریت کے امکانات روشن ہو جاتے ہین۔ لیکن معاملہ اتنا سیدھا نہیں ہے۔ ریاست جیسے فوج، قانون، پر سرمایہ داروں کا غلبہ اور اس کے ساتھ سول سوسائٹی کے اداروں جیسے میڈیا، نصاب تعلیم پر ان کے قبضے کی وجہ سے محنت کش طبقہ نظریاتی طور پر ان کے زیر اثر رہتا ہے۔ اس سب چیزوں کے با وجود جد و جہد کا راستہ انپیچدار بھول بحلیوں سے ہی گزر کے جاتا ہے۔

البتہ عدم تشدد کے موقف کے ہوتے ہوئَے،ایک استثنیْ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے۔: یہ عین ممکن ہے کہ کسی ملک میں گھٹن کی فضا میں عوام کا ریلا تمام تنگنایوں کو روندتا ہوا ایک غضب ناک نا قابل تحدید طوفان کو جنم دے۔ اس وقت انقلابی یا ترقی پسند پارٹیوں کے لئَے ناگزیر ہو جاتا ہے کہ وہ سیاسی خلا کو پورا کرنے کے لئے تاریخی ذمہ داری پوری کرے۔ میرے خیال میں ۱۹۱۷ کے روسی انقلاب اور افغانستان کے انقلاب ثور کے موقعے پر یہی ہوا تھا۔ اس کے بعد جو ہوا، وہ الگ کہانی ہے۔

پاکستان ایک ایسی صورت حال میں مبتلا رہتا ہے جس کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ یہاں ہر قسم کے حالات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ عام حالات میں بہر حال جمہوری جدو جہد ہی جس میں پارلیمانی اور بالائے پارلیمانی جد و جہد شامل ہیں ہمارا مقدر ہیں، اور کسی قسم کی خطر پسندی سے گریز کرنا لازم ہے۔ لیکن ترقی پشندانہ تبدیلی کے داعی۔ ہر قسم کے حالات کے لئے تیار رہتے ہیں۔

مجھے احساس ہے کہ فیبئین سوشلزم کے ساتھ اور کمیونزم اورمارکسزم کے بارے میں انصاف نہیں کر سکا۔ یار زندہ صحبت باقی۔

ایک تو یہ کم بخت کمپیوٹر پر اردو ٹائپنگ بھی ایک وبال جان ہے۔ اللہ اس سے بچائے۔

 

ا